Make your own free website on Tripod.com

fina-sherosokhan-animat.gif

Adbi Nishist Chicago and Baitbazi

 
 قصہ ادبی نشست شکاگو کا، رضیہ فصیح احمد کی ناول کا اجرا ء اور مقابلہ بیت بازی

قصہ اردو انسٹی ٹیوٹ کی ادبی نشست کا، رضیہ فصیح احمد کے ناول کا اجراء اور یادگار بیت بازی

ڈاکٹرمجاہدغازی کے قلم سے

گزشتہ ہفتہ شامبرگ لائبریری میں شائقین اردو کا ایک اژدہام نظر آیا۔ گو کہ یہ اردو انسٹی ٹیوٹ کی معمول کی ماہانہ نشست تھی مگر اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں امین حیدر اینڈ کمپنی نے ایک نیا تجربہ کیا تھا۔

پہلی مرتبہ اس میں بیت بازی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جب ہم نے اس کے بارے میں سنا تو یہ خیال ہوا کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو پا ئے گا لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئےکہ نہ صرف یہ کہ ھال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا بلکہ نوجوانوں اور نو واردوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔

"جواں جوھر" کے عنوان کے تحت حال ہی میں پاکستان سے آ ئے ہوئے نوجوان سید حسیب الرحمان نے پاکستان میں مروجہ نظام تعلیم کے حوالے سے "اردو نصاب تعلیم کی اھمیت" پرمدلل گفتگو کی اور بڑے اعتماد کے ساتھ سوالات کے جوابات دیے۔ گو کہ ان کا مشاہدہ شہری تعلیمی اداروں کا احاطہ کر رہا تھا مگر اس میں چھپی اردو کے حوالے سے ان کی شکایت قومی زبان سے ان کی محبت کی واضح عکاسی کر رہی تھی۔

 "آپ کی نگارشات اور تخلیقات" کی نشست میں ڈاکٹر سیف لطیف، عبدالرحیم طالب، ڈاکٹر منیر الزماں' شاہد علیگ، ڈاکٹر خورشید خضر، غوثیہ سلطانہ، حشمت سہیل، واصف مولجی، رضیہ فصیح احمد، نیاز گلبرگوی اور اس خاکسار نے اپنا کلام پیش کیا۔ مسقط سے آئی ہوئی محترمہ فرزانہ اعجاز نے اپنی ایک غزل اور نثری خاکہ " دادی کی فقیرنیاں" پیش کیا جسے سامعین نے بہت سراہا۔

اس نشست کا تیسرا دورمحترمہ رضیہ فصیح احمد کے نئے ناول 'ایک صدی کی کہانی' کی رونمائی پر مبنی تھا۔ شکاگو کو یہ اعجاز حاصل ہے کہ یہاں رضیہ فصیح احمد سکونت پزیر ہیں۔ آپ مشہور ناول نگار اور شاعرہ ہیں۔ ان کے پرستار ہندوستان اور پاکستان ہی میں نہیں ساری دنیا میں پھیلےہوئے ہیں۔ 'ایک صدی کی کہانی'  ہماری اور آپ کی کہانی ہے۔ اس کے کردار ہمیں اپنے چاروں طرف دکھائی دیتے ہیں۔ ناول کی کہانی اور کردار بہت خوبصورتی سے ان حالات اور واقعات کا احاطہ کرتے ہیں جو تقسیم ہند سے قبل کے زمانے سے شروع ہوکر موجودہ دور پر ختم ہوتے ہیں۔ آیک صدی کی کہانی تین نسلوں پر محیط ہے۔ آسان اور سہل اسلوب بیاں قاری کی دلچسپی اور توجہ کو ناول کی ابتدا سے آخری صفحہ تک برقرار رکھتا ہے۔ خود رضیہ کے مطابق ان کے ناول کے کردار پچھلی صدی کے اختتام اور موجودہ صدی کی ابتدا میں پیدا ہوئے اور ان تمام عوامل سے متاثر ہوئے جو سر سید تحریک سے لیکر لڑکیوں کی تعلیم ' خاندان میں آپس کی شادیوں، جنگ عظیم کے بعد کی مہنگائی، کثیر العیالی، ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد، پاکستان کے ابتدائی حالات، غیر مملک میں نقل مکانی اور وہاں کے مسائل تک پھیلے دکھائی دیتے ہیں۔ ناول کی کہانی انسانی رشتوں کی کہانی ہےجو قاری کو اپنے گھر اور آس پڑوس کی آپ بیتی محسوس ہوتی ہے۔

امین حیدر نے بہت خوبصورتی سے اس نشست کی نظامت کی۔ ڈاکٹر خوشید خضر نے ناول پر منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ احقر نے محترمہ رضیہ فصیح احمد کی شخصیت پر روشنی ڈالی۔ محترم نیاز گلبرگوی نے ناول پرمفصل تبصرہ کیا اور ان ہی کے ہاتھوں رسم اجراء انجام پائی۔ محترمہ رضیہ فصیح احمد نے آخر میں ناول سے اقتسابات پڑھ کر سنائے۔

نشست کا آخری دور واصف مولجی کی بیت بازی سے شروع ہوا جس میں انھوں نے حیدر آباد دکن کی ایک مشہور بیت بازی کو کمال مہارت سے اپنے حیران کن حافظے کی مدد سے دوبارہ زندہ کیا۔ ان کی اس اچھوتی پیشکش کے بعد حاضرین کے درمیان ایک نہایت ہی دلچسپ بیت بازی کی ابتدا ہوئی۔ دائیں اور بائیں جانب کے حاضرین کو ٹیم ذوق اور ٹیم غالب کا نام دیا گیا۔ ٹیم غالب کی کپتانی حشمت سہیل اور ٹیم ذوق کی کپتانی واصف مولجی نے کی۔ نصف گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والی بیت بازی میں تمام ہی حاضرین نے بھرپور حصہ لیا۔ وقت کی پابندی نے اس دلچسپ نشست کو اختتام پزیر کیا ورنہ حاضرین کی دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ کوئی جانے کو تیار نہیں تھا۔

 شکاگو کی شدید سردی میں اس فقید المثال ادبی نشست کی حدت نے ہر ایک کو گرما دیا۔     

sub_titles_of_bar.jpg

homepage.jpg