Make your own free website on Tripod.com

fina-sherosokhan-animat.gif

Afzal Chauhan's Book released

 
 ماہیا کے معروف شاعر افضل چوہان کی کتاب ’’خاموش نہ ہو ماہیا‘‘ کی تقریب رونمائی

 رپورٹ: جبار واصف

ادبی و ثقافتی تنظیم سخنور رحیم یار خان کے زیرِ اہتمام معروف شاعر و ادیب افضل چوہان کے شعری مجموعہ "خاموش نہ ہو ماہیا" کی تقریبِ رونمائی علامہ اقبال لائبریری کے وسیع و عریض ھال میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت جناب اظہر ادیب نے کی مہمانِ خصوصی جناب افضل چوہان اور مہمانانِ اعزاز مظفر گڑھ کے معروف شاعر سلیم نتکانی سرائیکی وسیب کے ہر دلعزیز شاعرعباس صادر اورمیانوالی سے تعلق رکھنے والے معروف شاعرو صحافی ریاض ندیم نیازی اور عکاس انٹرنیشنل کے مدیر جناب ارشد خالد تھے مہمانِ اعزاز مرشد سعید ناصر خرابی صحت کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے جن کی کمی کو شدت سے محسوس کیا گیااور ان کی صحت کے لئے دعا کی گئی تقریب کی نظامت کے فرائض سخنور کے روحِ رواں شہباز نیئر نے حسبِ روایت بہت خوبصورتی سے ادا کئے تقریب میں رحیم یار خان کی تمام علمی و ادبی شخصیات، شعراء کرام کے علاوہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد  میں شرکت کی۔
تقریب کا آغازقاری آصف علی سعیدی نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا اس کے بعدرحیم یار خان کے معروف نعت خواں جناب فیض احمد سعیدی نے حمد ونعت کے بزرگ اور سینئر ترین شاعر غلام مصطفی قمر کا نعتیہ کلام پیش کر کے محفل پر وجد طاری کر دیامعروف شاعر و ادیب جبارواصفؔ نے افضل چوہان پر مقالہ پڑھا جبار واصفؔ نے کہا کہ افضل چوہان ایک منفرد اسلوب کا شاعر ایک ہمہ جہت شخصیت ہے غزل سے لے کر صوفیانہ شاعری تک ، گیت نگاری سے لے کر ماہیہ تک ہر صنف میں اپنا لوہا منوانے والا افضل چوہان آج برصغیر پاک وہند میں شاعری کا معتبر حوالہ ہے "مجھے رونے نہیں دیتی" "وطن کی فریاد" جیسی شاہکار نظموں کا خالق افضل چوہان آج ہمارے درمیان ہے رحیم یار خان کے ایوانِ ادب میں افضل چوہان کی تشریف آوری ہمارے لئے اعزاز سے کم نہیں ہے۔"اُسے کہنا" پہلا شعری مجموعہ، ہنج دا سیک (سرائیکی شعری مجموعہ)، آنکھ میں سات سمُندر، اور اب "خاموش نہ ہو ماہیا"۔ ایک طویل سفر ایک طویل جدوجہد کے بعد افضل چوہان آج نہ صرف ہمارے وسیب میں ، ہمارے ملک میں بلکہ ملک سے باہر بھی اپنے کلام کا لوہا منوا چکاہے کشفی ملتانی، عبدالمجید راہی، عقیل روبی ، ڈاکٹراسلم انصاری، ڈاکٹر خیال امروہوی کی صحبتوں سے فیض یاب ہونے والے افضل چوہان کی صحبت سے آج ہم فیض یاب ہو رہے ہیں یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے "خاموش نہ ہو ماہیا" کی اشاعت پر جبار واصفؔ نے افضل چوہان کو مبارکباد پیش کی۔
مہمانِ اعزاز معروف شاعر سلیم نتکانی نے افضل چوہان کے فن اورشخصیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ افضل چوہان کے اردو ادب پر بے شمار احسانات ہیں جہاں وہ غزل کی روایت کو بڑی خوبصورتی سے اپنے ساتھ لے کر چلے وہاں علاقائی اصناف کو بھی انہوں نے نظر انداز نہیں ہونے دیا خاص طور پر انہوں نے افضل چوہان کے ماہیا کی خوبصورتی کا تذکرہ کیاکہ پاکستان میں بہت کم لوگ ہیں جو ماہیا کی صحیح ہیئت اور وزن کے اعتبار سے ماہیا کہہ رہے ہیں افضل چوہان انہی افرادمیں سے ایک ہیں جنہوں نے ماہیا کی صحیح ہیئت کو سمجھا اور عوام تک پنہچایاسلیم نتکانی نے افضل چوہان کی گیت نگاری کا بھی خصوصی طور پر تذکرہ کیا اور کہاکہ پی ٹی وی لاہور، کراچی اور اسلام آباد سے نشر ہونے والے افضل چوہان کے گیت ان کی تکنیکی مہارت اور منفرد اسلوب کا منہ بولتا ثبوت ہیں علاقائی ادب اور ادیبوں کو ملکی و غیرملکی سطح پر متعارف کرانے میں افضل چوہان کا کردار اور خدمات نہ قابلِ فراموش ہیں۔
اس کے بعد مشاعرے کا باقاعدہ آغاز ہوا شہباز نیئر، مزمل سعدی، جبار واصفؔ ،لالہ ناصر،خالد محمود ذکی،سعید شباب، امین بابر، جاوید خلجی ، شبنم اعوان، خالد جاوید، شہزاد عاطر، راشدہ کامل،ایس صبا وحید، مرزا فیصل، افتخار دانش، شاہد یاسر، اظہر عروج نے اپنا کلام پیش کیا مہمانانِ اعزاز سلیم نتکانی، ریاض ندیم نیازی اور عباس صادر نے اپنا کلام سنا کر بے پناہ داد وصول کی اس کے بعد تقریب کے دلہا صاحبِ شام جناب افضل چوہان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی ادب پرور شخصیت حیدر قریشی کو اُن کی شاندار علمی و ادبی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیااور ادب کی ترویج وترقی میں اظہر ادیب، حیدر قریشی اور سعید شباب کی مشترکہ کا وشوں کو سراہابعد ازاں اپنا خوبصورت کلام سنا کر محفل کو سہ آتشہ کر دیا حاضرین نے افضل چوہان کی غزلوں، ماہیہ اورنظموں پر دل کھول کر داد دی رحیم یار خان کی پہچان معروف غزل گائیک ظہیر عباس نے افضل چوہان کی خوبصورت غزلیں سنا کر محفل کو چار چاند لگا دئیے افضل چوہان نے ظہیر عباس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ظہیر کی آواز اور کمپوزیشن نے میری غزلوں کو جوان کر دیا ہے آخر میں صدرِ محفل جناب اظہر ادیب نے اپناہر دلعزیز کلام پیش کیاانہوں نے صدارتی کلمات میں افضل چوہان کی تخلیقی اور فنی بلندیوں کو سراہا اور اتنی خوبصورت شام منعقد کرنے پرادبی تنظیم سخنور کے تمام اراکین خصوصاً راشدہ کامل، شہباز نیئر اور شہزاد عاطر کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیااور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس قسم کی تقریبات منعقد ہوتی رہیں اور سخن کے چراغ ہمیشہ روشن رہیں اس کے ساتھ ہی تقریب اختتام پذیر ہو گئی

sub_titles_of_bar.jpg

homepage.jpg