Make your own free website on Tripod.com

fina-sherosokhan-animat.gif

Seminar on Ibne Safi at Dehli Dec2012

sub_titles_of_bar.jpg

شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اردو اکادمی دہلی کے اشتراک سے

 ’’ ابن صفی: شخصیت اور فن‘‘ کے موضوع پر سہ روزہ قومی سمینارکا افتتاح

نئی دہلی/۱۴؍دسمبر ۲۰۱۲

آرٹ اور ادب میں عوامی روایت شامل نہ ہو تو اظہار کے نئے پیرایے وجود میں نہیں آسکیں گے۔ کوئی بھی زبان صرف کلاسیکی ادب کے ذریعے قائم نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس میں عوامی ادب نہ شامل ہو۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایمریٹس شمیم حنفی نے سہ روزہ قومی سمینارکے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ابن صفی کی شخصیت اور فن پر سمینار منعقد کرنا ایک جرأت مندانہ ا قدام ہے۔ اس طرح ابن صفی کے تخلیقی ادب کا احیا ہو رہا ہے ۔ ابن صفی نے تفریحی ادب کا جو معیار پیش کیا وہ بہت غیر معمولی ہے۔ اس سمینار سے ایک بیریر ٹوٹے گا اوراب مقبول ادب پر بحث کرنے کا وقت آگیا ہے۔ پروفیسر شمیم حنفی نے ابن صفی کی تحریرو ں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ۱۹۵۲ میں ان کا پہلا ناول ’’دلیر مجرم‘‘ شائع ہوکر مقبول ہوا تو ان کے ناولوں کو پڑھنے کے لیے لوگوں نے اردو سیکھنا شروع کر دیا۔

جناب نجیب جنگ نے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ابن صفی کی تحریروں سے میں نے اردو زبان سیکھی اور ابن صفی کی تحریریں ہمارے لیے زاد سفر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ تقسیم کی وجہ سے اردو کو مسلمانوں کے ساتھ جو ڑ دیا گیا لیکن اب وہ حالات نہیں رہے بلکہ اردو زبان کے فروغ کے لیے سرکاری سطح پر بھی کئی اقدمات کیے جار ہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل، حکومت ہند جناب جتن پرساد افتتاحی اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی شریک ہوئے اوراپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کے بارے میں بچپن سے سنتا چلاآرہا ہوں اور آج یہاں کی تہذیب وثقافت اور تعلیمی ماحول کو دیکھ کر بڑی خوشی محسو س ہورہی ہے۔ انھوں مزید کہا کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ان جگہوں پر جاؤں جہاں نئی فکر کے چشمے پھوٹتے ہیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ ان میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کی تہذیب کی صحیح عکاسی مجھے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تہذیب میں صاف نظر آتی ہے جہاں جمہوری نظریے کو اولیت حاصل ہے۔ پروفیسر عبدالحق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسے ادیب کو خراج عقیدت پیش کرنے اور اس کی تحریروں کو زندہ کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جس کے تخلیقی سرمائے کو عوامی او ر مقبول ادب کہہ کر فراموش کردیا گیا تھا۔

صدر شعبہ اردو پروفیسر خالد محمود نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اردو کا رشتہ ہمیشہ سے چولی دامن کا رہا ہے۔ ۱۹۷۴ میں شعبہ اردو کے قیام سے قبل بھی یہاں اردو تہذیب نمایاں تھی اور شعبہ اردو کے قیام کے بعد بھی فروغ اردوکی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتارہا ہے ۔ یونیورسٹی کے موجودہ شیخ الجامعہ جناب نجیب جنگ کا عہد اردو کے حق میں ایک تاریخ ساز عہد ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ شعبہ اردو کے لیے ٹیگور پروجیکٹ کی حصولیابی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ افتتاحی اجلاس میں نظامت کے فرائض پروفیسر شہپر رسول نے انجام دیے اور کلمات تشکر اردو ادکادمی کے سکریٹری انیس اعظمی نے ادا کیے جبکہ ریسرچ اسکالر شاہ نواز فیاض نے تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز کیا۔ اس موقع پر نائب شیخ الجامعہ، رجسٹرار، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز ،طلبا و طالبا ت کے علاوہ جامعہ کے معزز عہدیداران بھی شریک ہوئے۔

 ( بشکریہ سلمان فیصل)

ibnesafi.jpg

دائیں سے: پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر خالد محمود، جناب جتن پرساد (زیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل، حکومت ہند) جناب نجیب جنگ (شیخ الجامعہ) پروفیسر شمیم حنفی، جناب انیس اعظمی

homepage.jpg