Make your own free website on Tripod.com

fina-sherosokhan-animat.gif

Seminar on Ibne Safi ended on 16 Dec 2012

sub_titles_of_bar.jpg

سہ روزہ سمینار ’’ابن صفی: فن و شخصیت‘‘کا اختتام 

نئی دہلی۔16؍دسمبر۔

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ بہ اشتراک اردو اکادمی، دہلی کے زیراہتمام سہ روزہ سمینار ’’ابن صفی: فن و شخصیت‘‘ کے تیسرے دن کے تیسرے اجلاس کی ابتدا صبح ساڑھے دس بجے ہوئی جس کی صدارت پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر عبدالحق اور ڈاکٹر ایم۔ اے۔ ابراہیمی نے کی جب کہ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر احمد محفوظ نے انجام دیا۔ابن صفی سے متعلق اس یادگار سمینار کے اس اجلاس کا پہلا مقالہ ڈاکٹر عمران عندلیب نے پیش کیا جس میں انھوں نے ابن صفی کی شاعری اور نثری تحریروں میں تلذذ آمیزی کے اثرات کی نشاندہی اس انداز سے کی کہ قاری اور قلم کار کے فہم اور ان کے ادراک کے وہ گوشے سامنے آجائیں جو مطالعہ کرتے ہوئے اکثر لوگوں کے سامنے نہیں آتے۔ شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالروں اقرا سبحان اور محمد عثمان نے اپنے پرچوں میں ابن صفی کے ان کرداروں کی تلاش کی جو طالب علموں کے لیے ان کی زندگی اور حالات کے موافق ہوں اور ان کے علم میں اضافہ کا باعث بھی بنتے ہیں۔ کانپور سے تشریف لائے خان احمد فاروق نے اپنے مقالے ’’ابن صفی ماورائے اسرار‘‘ میں ابن صفی کی تحریروں کے رموز پر اور ان کی نفسیاتی پرتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان رازہائے پنہاں کی عقدہ کشائی فرمائی جو عموماً مطالعہ کرتے ہوئے سیدھے طور پر قاری کے اوپر روشن نہیں ہوتیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ابن صفی کی تحریروں کو ادبِ عالیہ میں کوئی جگہ حاصل نہیں ہوسکی ہے تو کیوں نہ ہم ان کو ہائی پاپولر لٹریچر سے تعبیر کریں۔ اردو زبان کے رموز وکنایات سے گہری واقفیت رکھنے والے مختار ٹوکی نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ابن صفی کی حیثیت تھری اِن ون کی ہے۔ شعریات و مضحکات اور جاسوسیات میں ابن صفی نے انفرادی اور نمایاں سنگِ میل نصب کیے ہیں۔ ابن صفی اسرار احمد کی ناول نگاری کے طوفان کی ابتدا الٰہ آباد سے ہوئی اور اختتام کراچی پاکستان میں ہوا۔ مقالے کا زیادہ تر حصہ  اور شعری آہنگ لیے ہوئے تھا جس میں ضرب الامثال کی کثرت نے چار چاند لگائے اور سامعین کو بہت محظوظ کیا۔ انھوں نے ابن صفی کے ایک مضمون ’’قواعدِ اردو‘‘ کو خاص طور پر اپنا موضوع بنایا جو شوخی و ظرافت کا بہترین خوشہ ثابت ہوا۔ معروف صحافی سہیل انجم نے ’’تزک دو پیازی‘‘ کے تعلق سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ابن صفی راسخ العقیدہ ہوتے ہوئے بھی اسلام کے نام پر سامنے آنے والے فریب دیکھ کر تڑپ اٹھتے تھے ۔ انھوں نے شوہر و بیوی اور آدمی اور عورت کے سماجی اور غیرسماجی رشتوں کو ابن صفی کے زاویۂ نظر اور سماجی دور بینوں کے ذریعہ تلاش کرتے ہوئے سبق آموز نتائج برآمد کیے۔ ایک دوسرے صحافی لئیق رضوی نے اپنے مقالے بہ عنوان ’’ابن صفی کے منفی کردار‘‘ میں پرزور انداز میں کہا کہ منفی کرداروں کی تخلیق کی تحریک اور وجوہات کو تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔ ان کرداروں کے ارتقائی مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے عبرت ناک و نصیحت آمیز نتائج سے آگاہی کا اظہار موثر انداز میں کیا۔ پونہ سے تشریف لائے قاضی مشتاق احمد نے اردو فکشن میں ابن صفی کی معنویت تلاش کرتے ہوئے بتایا کہ بقول ابن صفی فرار ہی انسانی اور سماجی ترقی کی ضمانت ہے۔ حالات میں تبدیلی لانے کے لیے قانون کا احترام لازم ہے یہی ابن صفی کا مقصد تھا۔ ابن صفی نے کہا ہے کہ میری کتابیں چاہے الماریوں کی زینت نہ بنیں لیکن تکیے کے نیچے ضرور پائی جاتی رہیں گی کیوں کہ میں نے جو میڈیم اختیار کیا ہے وہ عوام الناس کی فہم اور ضرورت کے مطابق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابن صفی کے تعلق سے شاعری میں بات کریں تو ایک شعر کافی ہے: ’’جو ہوسکے تو ہمیں پائمال کرتا جا151 نہ ہوسکے تو ہمارا جواب پیدا کر‘‘ بھوپال سے آئے ہوئے پروفیسر آفاق احمد نے اپنے مقالے کا ماحصل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سائنٹفک ایجادات اور سماجی سروکار سبھی ابن صفی کا موضوع بنے اور انھوں نے تقریباً تمام مسائلِ زندگی کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس میں خیروشر کی جنگ میں خیر کی فتح اور سرخ روئی کو ترجیح دی ہے جو ہمیں حق شناسی اور حق پرستی کی ترغیب دیتی ہے۔اس اجلاس کے صدر ڈاکٹر ایم۔ اے ابراہیمی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکادمی، دہلی اور شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ابن صفی کے اعتراف کی ایک تاریخی بنیاد ڈالی۔ میں بھی سنہ 65ء سے 75ء تک ابن صفی کو پڑھتا رہا ہوں۔ آج کے مقالہ جات میں میری سب یادیں تازہ ہوگئیں۔ ابن صفی کے ہر کردار میں نیا پن ہے اور وہ خاص ڈائرکشن کے تحت سامنے آتا ہے۔ ابن صفی نے جرائم سے پاک سماج پیدا کرنے کا مشن اختیار کیا تھا۔ پروفیسر عبدالحق نے اپنے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مقالہ نگاروں نے مختلف النوع عنوانات پر فکر انگیز مقالے لکھے جن میں مجھے تازگی کا احساس ہوا کیوں کہ ان میں متن شناسی کے گوہر سامنے آئے۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اس سمینار کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی زندگی کی اردو کی تاریخ کی ایک یادگار اور روشن تقریب کے طور پر یاد کیا جاتا رہے گا۔ ہم اس طرح سمجھ لیں کہ جس طرح انگارے پر بہت سی پابندیوں کے باوجود پروفیسر محمدمجیب نے رسالہ ’’جامعہ‘‘ میں تنقیدی تبصرہ لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ ادب شاید مستقبل میں ہمارے لیے راہ نما ثابت ہوگی، اسی طرح یہ سمینار ہے جو جامعہ کی اردو ادب میں نئی روایت قائم کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ ادب کو ادبِ عالیہ اور پاپولر ادب کے ذیل میں جاننا اور پرکھنا فریبِ نظر ہے، اصل شے تخلیق ہوتی ہے۔

اس سمینار کا چوتھا اجلاس دوپہر بعد پروفیسر عتیق اللہ، پروفیسر صادق، پروفیسر محمد شاہد حسین اور پروفیسر شہزاد انجم کی صدارت میں منعقد ہوا جس کی نظامت ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے کی۔ اس اجلاس میں ریسرچ اسکالر زمرد خاں نے اپنے پرچہ میں کہا کہ مشرقی تہذیبوں کو آئندہ سفر کی منزلیں چین کی سربراہی میں طے کرنی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کا ابن صفی کے چار ناولوں کا ترجمہ کرنا ایک بڑے آدمی کا دوسرے بڑے آدمی کے تئیں احساسِ اعتراف و افتخار کا اظہار ہے۔جناب شعیب نظام نے اپنا مقالہ بہ عنوان ’’ابن صفی انور رشیدہ سیریز کے حوالے سے‘‘ پیش کیا جس میں انھوں نے ان دونوں سیریز کے مرکزی محوروں پر روشنی ڈالی اور کرداروں کی برتری اور ابتری کا خوبصورت جائزہ پیش کیا۔ پروفیسر شافع قدوائی نے بہ عنوان ’’قرأت مسلسل کا استعارہ ابن صفی‘‘ اپنا مقالہ پیش کیا جس میں انھوں نے ابن صفی کی ہردلعزیزی اور عوامی مقبولیت کے اسباب تلاش کرنے کے ساتھ اس کی قرأت کے طلسم یعنی ان تحریروں کے سرمۂ نظر بنانے کے جادو پر روشنی ڈالی۔ اس اجلاس کا آخری مقالہ پروفیسر علی احمد نے پیش کیا جس کا عنوان ’’عوامی ادب کی شعریات ابن صفی کے حوالے سے‘‘ تھا جو بہترین ثابت ہوا اور اس مقالہ کے بین السطور میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ابن صفی کو ادبِ عالیہ میں شامل کرنے کے لیے ابھی تک خود کو تیار نہیں کرپائے ہیں۔مجلسِ صدارت کے چاروں ارکان پروفیسر عتیق اللہ، پروفیسر صادق، پروفیسرمحمدشاہد حسین اور پروفیسر شہزاد انجم کے صدارتی خطابات کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ ابن صفی ایک ایسے بلند خیال اور ممتاز تحریری ملکہ رکھنے والی شخصیت کا نام ہے جس سے نصف صدی کی نسلیں نہ صرف مستفید ہوتی رہی ہیں بلکہ اردو کی ترویج اور ترقی میں بھی ابن صفی کی تحریریں ایک نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ انھوں نے الفاظ کے رموز و کنایات سے اپنے قاری کو نفسیات اور سماجی رشتوں اور گزرتی زندگی کے حالات سے سبق آموزی کے ہم آغوش کرکے واقف کرانے کے بہت سارے ہنر آزمائے اور ان میں کامیاب ہوئے۔

سہ روزہ قومی سمینار کا اختتامی اجلاس آج پانج بجے ایڈورڈ سعید ہال، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہوا جس میں بحیثیت مہمانِ خصوصی جناب سید شاہد مہدی، وائس چیئرمین آئی سی سی آر تشریف فرما تھے۔ اس اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر ایس۔ ایم۔ راشد، پرووائس چانسلر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی۔ اس جلسہ کی نظامت کے فرائض سکریٹری اردو اکادمی جناب انیس اعظمی نے انجام دیے جب کہ پروفیسر خالد محمود، صدر شعبۂ اردو نے سمینار کے تمام اجلاس کا احاطہ کرتے ہوئے ان کی کامیابی پر روشنی ڈالی اور آئے ہوئے مشوروں کو اپناتے ہوئے مستقبل میں حکمتِ عملی اختیار کرنے کا اعادہ ظاہر کیا اور پروفیسر عبدالحق، کنوینر سمینار کمیٹی اردو اکادمی نے کہا کہ سمینار کے شرکا کے اس اصرار کو اردو اکادمی زیرِغور رکھے گی کہ جلد از جلد ابن صفی کی اہم تحریروں کو سامنے لایاجائے۔

 

untitled-dec2012.jpg
untitled2dec2012.jpg
untitled3dec2012.jpg

homepage.jpg