Make your own free website on Tripod.com

fina-sherosokhan-animat.gif

Halqai Danish Jeddah ki Monthly Mehfil

sub_titles_of_bar.jpg

corner_sherosokhan.jpg

حلقہءدانش جدہ : ماہانہ ادبى نشست كى روداد
ڈاکٹرتوقیرحیدر))

اس بار حلقہءدانش جدہ کی ماہانہ بساط شعروسخن کھلےآسمان کےنیچےسبزہ زار میں سجائی گئی۔ قارئین کرام، آپ یقینا اتفاق کریں گے کہ موسم کی خوبصورتی وخوشگواری جولانیء طبع کا سبب توبنتی ہے۔ اس پر ُطرہ اگر خوبصورت رنگ تغزل کا ہوتوآپ بخوبی اندازہ لگا سکتےہیں کہ ذہن ودل کی کیفیت کیا ہو گی ۔ایسی ہی ایک سہانی شام کو اس نشاط تقریب کےلیے چنا گیا جس میں جدہ کےمعروف شعراء اورنثرنگاروںنےاپنےدلآویزکلام سےخمارشام کوخوب دوآتشہ کیا۔

تقریب کے مہمان اعزاز معروف درویش صفت شاعر، دوخوبصورت سندھی اور اردو شعری مجموعوں کےخالق ، جناب شبیر شاہ ھاتف تھے۔ عشق حقیقی میںڈوبا ہوا آپکا کلام سادگی، فصاحت اور کیفیت و جذب کا مرقع تھا۔

مہمان خصوصی کےلیےجس بزرگ شخصیت نےمسند کو رونق بخشی وہ تھے جناب طارق ظہیرفاروقی جو پاکستان سےعمرہ کی سعادت کے لیے تشریف لائے ہوئے تھے۔ علمی اورادبى شخصیت ہیں، قرآن پاک پر ایک عمیق مطالعہ کا شرف حاصل ہے، شعری ذوق سے مالا مال ہیں, طویل مطالعاتی سفر میں متعدد شعراء اور ادباء کی ذاتی زندگی پر مشتمل یادوں کا دفینہ اپنے سینے میں رکھتےہیں- آپ ایسے بزرگ کی موجودگی تمام حاضرین کے لیے باعث  فخر و تقویت رہی.

قونصل جنرل جناب محمد آفتاب کھوکھر، جناب مطاہررضوی (صدرپاکستان ایگزیکٹوگروپ)، شاہین رضاجعفری، ندیم فاروقی، قاسم نقوی، محمد اسد ، موسى رضا، تمکین حیدر کے علاوہ شہر کی دیگرممتاز ادبی اورسماجی شخصیتوں نے اس محفل کی رونق کودوبالا کیا اورشعراء وادباء کوخوب دادوتحسین سےنوازا۔

تقریب کا باقائدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کا شرف ڈاکٹرتوقیرحیدر نے حاصل کیا، نظامت کے فرئض بھی انہی کے سپرد تھے۔ جبکہ خوش الہان شاعرجناب انوار حسین نے بارگاہ رسالت میں نعت رسولِ مقبول پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ جن معروف شعراءکرام نےاس خوب صورت شام کواپنےدلاویز کلام سے کیف آگیں بنایا انکے نام نامی بالترتيب کچھ یوں ہیں،

جناب شبیرھاتف، جناب محمد مجاہدسید ، جناب محمد مختارعلی ، جناب آفتاب ترابی، جناب زوارقمرعابدی، جناب فیصل طفیل، محترمہ حناء سمیع صاحبہ، جناب ڈاکٹر محمود اقبال حیدر، جناب محمد انوارحسین اور راقم الحروف ڈاکٹرتوقیرحیدر۔ جبکہ نثری حوالےسےاپنی خوبصورت تخلیقات پیش کرنے والوں میں معروف صاحب اسلوب مزاح نگار نادرخان سرگروہ نے " تربوز " کے عنوان سےایک نہائت شگفتہ اور لطیف نثرپاره پڑھا جو سامعین نے بہت سراھا۔ حلقہء دانش کے اساسی رکن اورمعروف علمی وادبی شخصیت جناب محمداشفاق بدایونی نے ایک منفرد افسانچہ (بلاعنوان) پیش كيا جسےدلچسپی اورتجسس سے سنا گیا، جبکہ جناب عصیم حنیف نے اپنی زیرتکمیل اردو لغت کا تعارف پیش کیا۔

قارئین کرام، اس میں شک نہیں کہ غزل مشاعروں كى جان ہوتی ہے ،توآئیے اس رنگ تغزل کا نمونہ ملاحظہ کیجیے جسکا انتظار ہر ذوق شعر رکھنے والے کو ہوتا ہے۔

۱ٴٴٴ۔ ڈاکٹرتوقیرحیدر (راقم)نے ایک لطیف قطعہ اورغزل کےچند شعر پیش کیے، ملاحظہ ہوں،

غزل کےدوآشعار:

اب توتضحیک زمانہ سےجھکی جاتی ہیں

وہ جن آنکھوں نے سمر قند و بخارا دیکھے

جو فلک نے کبھی دیکھا نہ زمیں نے دیکھا

اب میری آنکھ وہ خوناب نظارہ دیکھے

جناب محمد انوار حسین

روز اک خواب مجھے جنگ میں لے جاتا ہے

قتل ہو جاتا ہوں ملتا نہیں لشکر اپنا
دشمن جاں میں تجهے کیسی دعا دوں اب کے
سونپ بیٹها ہوں ترے ہاتھ میں خنجر اپنا


جناب ڈاکٹر محمود اقبال حیدر
:

خوب رو بےمثال کرآنکھیں

آینہء جمال کرآنکھیں

لمحہء صبر کو بسا ان میں

قریہء ماہ وسال کر آنکھیں

محترمہ حنا سمیع:

فیصلہ تم نے ہی کرنا ہے مگر جانے کیوں

کوئی لمحہ تمہیں منزل سے ہٹا دیتا ہے

جناب فیصل طفیل:

نقش قدم جو صحراوں سے ملتے ہیں

قیس کے ہیں یا مرے پاوں سے ملتے ہیں

کتنی ندیاں کتنی صدیاں راہ میں ہیں

شہر کے رستے کب گاوں سے ملتے ہیں

جناب زوار قمر عابدی:

رات بھر نگاہوں میں خواب بو نہیں سکتے

کس قدر اذیت ہے لوگ سو نہیں سکتے

اور اس سے بڑھ کر بھی بےبسی کوئی ہو گی

آنکھ میں سمندر ہے اور رو نہیں سکتے

جناب آفتاب ترابی:

فن کی میزان پہ معیار سے کم نکلے ہو

پھول کا ذکر کہاں خار سے کم نکلے ہو

دشمنو تم کو بھلا مجھ سے شکائیت کیسی

تم عداوت میں میرے یار سے کم نکلے ہو

جناب محمد مختار علی؛

علم چلتا ہے نہ دنیا کی رضا چلتی ہے

یہ مقدر ہے یہاں ماں کی دعا چلتی ہے

ٹھیک سے دیکھ بھی پاتے نہیں هم اس کے نقوش

کس قدر تیز جوانی کی بلا چلتی ہے

جناب مجاہد سید:

بجھے چراغ کی صورت نڈھال جسم میں تھا

اے مری زیست میرا ہر کمال جسم میں تھا

جناب شبیر شاہ ھاتف:

ایک دو پل کی بات ہے یارو

کوئی لمبی نہیں سنانی ہے

عشق مجبور، حسن بے پرواہ

اپنی اتنی سی ھی کہانی ہے

ٓ واعظ تری زبان کو دھو لوں گلاب سے

تو نے مجھے کہا ہے در مصطفی کی خاک

آخر میں مہمان خصوصی جناب طارق ظہیر فاروقی کو اظہارخیال کی دعوت دی گئی، جس میں انہوں نے اس خوبصورت تقریب سجانے پر حلقہء دانش کو مبارکباد دی  اور فرمایا کہ ایک زمانے میں وہ حلقہء ارباب ذوق پاکستان کی محافل میں باقائدگی سے شرکت کرتے رہے ہیں اور مزیدکہا کہ ‘‘میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج حلقہءدانش کی محفل شعروسخن حلقہءارباب ذوق کی محافل کےبلکل برابر ہے‘‘۔

 

picture1.jpg
group-danish.jpg
picture4.jpg
picture3.jpg
picture2.jpg

homepage.jpg