Make your own free website on Tripod.com

fina-sherosokhan-animat.gif

Iqbal key Manzoom Tarjumey (Dr. Hasanuddin Ahmed)

hasanuddin_ahmed.jpg

اقبال کے منظوم ترجمے

 

ڈاکٹر حسن الدین احمد ﴿حیدرآباد﴾

 

ترجمہ کی اہمیت کسی تخلیق سے کم نہیں۔ لیکن یہ ترجمہ کی بنیادی خصوصیت اور کمزوری ہے کہ خواہ کتنا ہی اچھا ہو اصل جذبہ اور احساسات کی ہو بہو ترجمانی نہیں کر سکتا ۔جب یہ صورت حال ہو تو سوال پیدا ہو تا ہے کہ ترجموں کے ذریعہ اور وہ بھی چند مخصوص ادب پاروں کے ترجمے کے ذریعہ دو زبانوں کے درمیان کی خلیج کو کیسے پاٹا جا سکے گا، یہیں منظوم ترجموں کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ کسی بھی زبان کا ادب عالیہ اس زبان والوں کے خیالات اور احساسات کا نچوڑ ہوتا ہے ۔ ایک زبان کی چند نظموں کے منظوم ترجموں کے ذریعہ اس زبان کے شاعروں کے سوچنے کے انداز سے واقفیت حاصل کی جا سکتی ہے۔

 

منظوم ترجموں کی مشکلات:

 

ترجمہ خود ایک فنی کام ہے جو تخصیص چاہتا ہے۔ یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ ادبیات کا خاطرخواہ ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ شعر کا منظوم ترجمہ تو تخلیقی صلاحیت بھی چاہتا ہےتنگنائے ترجمہ میں طبع آزمائی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ منظوم ترجموں میں اصل تخلیق کے مجموعی تاثر کو پیش کرنا ہوتا ہے اور جس زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے اس کے اپنے اسلوب بیان اور لب و لہجہ کو جملہ خصوصیتوں  کو بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ انگریزی اور اردو کی حد تک تو زبانوں کی روش، ان کا مزاج اوراظہارخیال کےاسالیب بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

 

انگریزی شاعری کے منظوم ترجمے کم و بیش تین سو شاعروں نے کئے ہیں، ان شاعروں نے ایک سے زیادہ پابندیوں کو اپنے اوپر عائد کیا اور خوب سے خوب تر کی  تلاش میں آپس میں مسابقت بھی کی۔

 

یہ بات کہ انگریزی کے مخصوص شاعروں ہی نے ہمارے شاعروں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور ان کی تقریباً ساڑے سات سو نظموں ہی کے منظوم ترجمے ہوئے ۔۔۔ یقیناً چونکا دینے والی ہو گی۔

 

انگریزی شاعری کے منظوم تراجم کی حد تک ایک خاص بات یہ ہے کہ ہر دور میں اردو ادب کے کسی نہ کسی بڑے چار نے اس میدان میں طبع آزمائی کی۔ انشاء ّہوں کہ غالب ، حالی ہوں کہ اکبر الہ آبادی، نظم طبا طبائی ہو کہ سرور جہاں آبادی ان سب کا تعلق منظوم ترجموں سے رہا اور ان سب نےاردو شاعری کے ساتھ ساتھ منظوم ترجموں کی طرف توجہ کی ۔

بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی منظوم ترجموں سے اردو کے ایک عظیم شاعر                                                                                 ﴿۱﴾


 کا نام وابستہ ہوتا ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری کے ابتدائی دور میں منظوم ترجموں کی طرف توجہ کی۔

جس طرح اردو شاعری کی اہم صنف منظوم ترجمہ پر اس وقت تک بہت کم توجہ دی گئی ہے، اسی طرح اگر اقبال کی شاعری کے کسی گوشہ کو قریب قریب نظر انداز کیا گیا ہے تو وہ اقبال کے منظوم ترجمے ہیں۔ حالانکہ اقبال نے جو منظوم ترجمے کئے ہیں ان کے علاوہ ان کی شاعری کا ایک قابل لحاظ حصہ ایسا بھی ہے جو مغربی شعراء کے کلام سے متاثر ہے۔

 

پروفیسر عبد القادر سروری اپنی کتاب "جدید اردو شاعری" میں لکھتے ہیں۔

"اقبال کی ابتدائی شاعری کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو مغربی شعراء جیسے ٹینی سن، ایمرسن اور گوئٹے وغیرہ کے کلام سے ماخوذ ہے، یہ درحقیقت اقبال کی موضوعی نظموں کا اولین نقش ہیں۔ اکثر شعراء جنہوں نے مغربی نظموں کے مقابلے میں نظمیں لکھنے کی کوشش کی ہے، پہلے مغربی شعراء کے کلام کو نمونہ بناتے رہے۔"

 

مخزن اپریل ۱۹۰۴ء میں سر عبدالقادر کا سہ سالہ ریویو شائع ہوا ۔ انہوں نےلکھا :

مخزن کا ایک مقصد اردو نظم میں مغربی خیالات، فلسفہ اور سائنس کا رگنگ بھرنا اور نتیجہ خیز مسلسل نظم کو رواج دینا تھا تاکہ نظم اردو کا رنگ نکھرے، اس کے اثر کا حلقہ وسیع ہو اور جو لوگ انگریزی نظم کی خوبیوں کے دلدادہ ہیں ان کی نسل کے لیے بھی کچھ سامان ملکی زبان میں مہیا ہو جائے۔ یہ مقصد بھی خاطرخواہ پورا ہوا اور اس کے پورا کرنے میں سب سے زیادہ کوشش شیخ محمد اقبال صاحب ایم اے اور نیرنگ  بی۔اے کی طرف سے ہوئی، جن کے کلام کا مجموعہ جب شائع ہوگا تو شائقین دیکھیں گے کہ کتنے نئے خیالات اور کس کس خزانے کےعلمی جواہرات ان دل آویز چھوٹی چھوٹی نظموں میں جمع کئے گئے ہیں۔

 

اقبال نےانگریزی ادب کا بنظر غائرمطالعہ کیا تھا اوراس پر ان کی گہری نظرتھی۔ یورپ اور انگلستان کے قیام اور وہاں کی تعلیم کے دوران انگیزی ادب سےان کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔ اپنے ہم عصر ادیبوں کی طرح ان کی بھی خواہش تھی کہ مغربی ادب کے فن پاروں سے اردو ادب مالا مال کریں ۔ جب اقبال ۱۹۰۸ ء کے وسط میں یورپ سےواپس ہوئےتومخزن کے اڈیٹر شیخ عبدالقادر نے ان سے فرمائش کی کہ وہ انگریزی نظموں کے منظوم  ترجموں کی طرف توجہ کریں۔ چنانچہ مخزن کے پہلے شمارہ ﴿اپریل ۱۹۰۱ء ﴾ میں اقبال کی نظم "کوہستان ہمالہ" کے عنوان سے شائع ہوئی جس پر اڈیٹر کی طرف سے یہ نوٹ ہے۔

 

شیخ محمد اقبال صاحب ایم اے قائم مقام پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور جو علوم مشرقی اور مغربی دونوں میں صاحب کمال ہیں، انگریزی خیالات کو شاعری کا لباس پہنا کر ملک الشعراانگلستان ورڈسورتھ کے رنگ میں ہمالہ کو یوں خطاب کرتے ہیں۔                   

اپنی ابتدائی شاعری میں اقبال نے مغربی شاعروں سے بھر پور استفادہ کیا۔ اس کے متعلق لکھتے ہیں۔

 

"میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے ہیگل، گوئٹے، غالب، بیدل، اور ورڈ  سورتھ سے                                                                                     ﴿۲﴾


بہت استفادہ کیا ہے۔ ہیگل اور گوئٹے نے اشیاء کی باطنی حقیقت تک پہنچنے میں میری رہنمائی کی۔ غالب اور بیدل نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ مغربی شاعری کے اقدار کو سمولینے کے باوجود اپنے جذبہ اور اظہار میں مشرقیت کی روح کو کیسے زندہ رکھوں اور ورڈسورتھ نے طالب علمی کے زمانے میں مجھے دہریت سے بچالیا"

 

اقبال کے ابتدائی کلام میں انگریزی شاعری کی صدائے بازگشت صاف سنائی دیتی ہے۔ رسالہ مخزن﴿جنوری ۱۹۰۴ء﴾ میں انگریزی شاعر ڈائک کے تین شعروں کا ترجمہ شریک ہے، جو اقبال نے عبدالغفار خاں کی فرمائش پر لکھے تھے۔ ذیل میں چند مثالیں نمونہ کے طور پر پیش ہیں۔ جن انگریزی اشعار کا یہ عکس ہیں، کو ساتھ ساتھ پیش کیا ہے۔

 

کلیۂ افلاس  میں دولت  کے  کاشانے  میں موت

دشت ودرمیںشہرمیں گلشن میں ویرانے میں موت

موت   ہے  ہنگامہ   آرا   قلزم  خاموش   میں

ڈوب  جاتے  ہیں  سفینے موت  کی  آغوش  میں

کتنی مشکل زندگی ہے، کس قدر آساں ہے موت

گلشن ہستی میں  مانند  حباب  ارزاں  ہے  موت

Death is here and death is there

Death is busy every where

All around, within, beneath

Alone is death… and we are death

Shelley “Death” 1820

 

 

 آہ غافل موت کا  راز ﹺ نہاں  کچھ  اور  ہے

نقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہے

موت   تجدید  مذاق  زندگی   کا  نام   ہے

خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے

There is no such thing as death

In nature nothing dies

From each sad remnant of decay

Some form of life arise

Charles Mackay “No such thing as death”

 

حیرتی ہوں میں تری  تصویر کے اعجاز کا

رخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کا

رفتہ و حاضر کو  گویا پابہ پا اس  نے  کیا

عہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیا

Bless be the art that can immortalize

The art that baffles Time’s tyrannic claim

To quench it here shines on we still the same

Faithful remembrance of one so dear

William Cowper. “On The receipt of my mother’s picture”

 

اب کوئی آوز سوتوں کو جگا سکتی نہیں

سینہء  ویراں  میں  جاں   آسکتی   نہیں

 

                               

But who shall mend the clay of man,

The stolen breath to man restore

Sir Richard Burton “The Kasidah”

 

۳


Can storied urn or animated bust

Back to its mansion call the fleeting breath

Can honour’s  voice provoke the silent dust

Or flattery soothe the dull cold year of Death

 

Thomas Gray  “Elegy”

No lamination can lose

Prisoners of death from the grave

Mathew Arnold Merope

شورش بزمطرب کیا عود کی تقریر کیا

درد  مندانجہاں کا نالہء  شب  گیر  کیا

عرصہء پیکار میں ہنگامہء شمشیر  کیا

خون  کو گرمانے  والا نعرہء  تکبیر کیا

 

اب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیں

سینہء ویراں میں جان رفتہ، آسکتی نہیں

﴿گورستان شاہی۔ بانگدرا﴾

 

Life is not measured by the time we live

George Crabbe,

“The Village”

تو اسے پیمانہء امروز و فردا سے نہ  نا پ

جاوداں پیہم رواں، ہر دم  رواں  ہے  زندگی

خضر راہ ۔ بانگدرا

 

Life is not measured by the time we live

George Crabbe, “The Village

زندگانی   جس   کو  کہتے  ہیں   فراموشی  ہے  یہ

خواب ہے، غفلت ہے، مستی ہے، بے ہوشی ہے یہ

 

Goethe in Weimar sleeps, and Greece,

Lone since, saw Byron’s struggle cease.

But one such death remain’d to come

The last poet voice is dumb

We stand today by Wordsworth’s tomb

Mathew Arnold,

“Memorial Verses”

عظمتغالب  ہے  اک مدت  سے  پیوندزمیں

عہد ہی مجروح ہے  شہر خموشاں  کا  مکیں

توڑ  ڈالی  موت  نے غربت  میں  مینائے  امیر

چشم محفل میں ہے اب تک کیف صہبائے امیر

آج  لیکن  ہمنوا سارا   جہاں   ماتم   میں   ہے

شمع روشن بجھ گئی بزمسخن ماتم  میں   ہے

چل بسا  داغ آہ میت  اس کی  زیب دوش  ہے

آخری   شاعر   جہاں آباد    کا   خاموش  ہے

﴿مرثیہ غالب۔ بانگدرا﴾

 

Time may restore us in his course

Goethe’s sage mind and Byron’s force;

But where will teach Europe’s latter hour

Again find Wordsworth’s healing power?

Other will teach us how to dare,

And against fear our breast to steel;

Others will strengthen us to bear

But who, ah! who, will make us feel?

The cloud o mortal destiny,

Others will front it fearlessly

But who like him will put it by?

Mathew Arnold, “Memorial Verses”

 

۴

اور دکھلائیں گے  مضموں  کی ہمیں  باریکیاں

اپنی   فکر ِ  نکتہ  آرا کی    فلک   پیمائیاں

تلخی دوراں کے نقشے کھینچ کر رلوائیں گے

یا  تخیل  کی  نئی  دنیا  ہمیں    دکھلائیں  گے

اس چمن میں ہوں گے  پیدا   بلبل  شیراز   بھی

سیکڑوں ساحر بھی ہوں گے صاحباعجاز بھی

ہو بہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون؟

اُٹھ  گیا  ناوک فگن  مارے  گا دل  پر تیر کون؟

مرثیہ داغ۔ باگدرا﴾)

 


There is a kind mood of melancholy

That wings the soul, and points her to the skies.

John Dyer, “The ruing of Rome

حادثاتغم سے ہے انسان کی فطرت کا کمال

غمژہ   ہے  آئینہ  دل  کے  لیے  گرد   ملال

God is see God

In the star, in the stone, in the flesh,

In the soul and the cloud.

Robert Browning, “Saul”

چمک تیری عیاں بجلی میں آتش میں شرارے میں

جھلک تیری ہویدا چاند میں سورج میں تارے میں

 

غزل ۔ بانگدرا﴾)

 

Or if, once in a thousand years,

A perfect character appears,

Charies Churchill, “The Ghost”

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

طلوع اسلام ۔ بانگ درا﴾)

 

Who is this before whose presence idols

Crumbles to the rod

While he cries out – Allah Akbar! And

There is no God but God

William R. Wellace, “El Amin”

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئےر ہتے تھے

منہ کے بل گر کے  ہو اللہ  ہو احد  کہتے   تھے

شکوہ۔ بانگدرا﴾)

 

And heart profoundly stirr’d.

And weep, and feel the fullness of the past

The years  that are no more.

Mathew Arnold, “Growing Old”

سماں آنکھوں میں پھر جاتا ہےجب فصلبہاری کا

گلوں  کو یاد  کرکے  خوب روتا ہوں  گلستاں  میں

 

As a dare – gale sky lark scanted in a dull cage

Man’s mounting sprit in his bone-house

Mean hose, dewlls

اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیر

اے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیر

 

ان کے علاوہ بھی اقبال کے خیالات اور انداز بیان میں مغربی افکار کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔ ان کا حوالہ اقبال نے اشارتاً دیا ہے نہ صراحتاً۔ خیالات کے علاوہ  اقبال نے کلام کی موسیقیت اور آہنگ میں بھی مغربی شاعروں سے استفادہ کیا۔ اقبال نے اپنے اسلوب میں صوتی حسن پر جو توجہ دی ہے اس کے لیے بقول ڈاکٹر سید حسین، ٹینی سن کے برائے راست یا بالواسطہ اثر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿ تحقیق اور حاصل تحقیق ﴾

 

اقبال نے انگریزی نظموں کو اردو کا قالب دیتے ہوئے حسبذیل نظمیں لکھیں۔

 

۱۔  ایک مکڑی اور مکھی ﴿۱۱:۹﴾ ماخوذ لکھا، لیکن آزاد ترجمہ ہے

۲۔  ایک پہاڑ اور گلہری ﴿ ۱۵۳:۳﴾ ماخوذ  ایمرسن لکھا  لیکن آزاد ترجمہ ہے۔

۳۔  ایک گائے اور ایک بکری ﴿ ۱۷:۹﴾ ماخوذ لکھا لیکن آزاد ترجمہ ہے

۴۔  بچے کی دعا ﴿۹:۸ ﴾ ماخوذ لکھا لیکن آزاد ترجمہ ہے                

۵۔  ہمدردی ﴿ ۱۹:۹ ﴾ ماخوذ از ولیم کوپر لکھا ۔ ماخو ذ ہے

۶۔  ماں کا خواب ﴿۲۲۵: ۳ ﴾ ماخوذ نہیں لکھا۔ ماخوذ ہے                     ۵ 


۷۔  پرندے کی فریاد۔ ماخوذ نہیں لکھا  لیکن ماخوذ ہے              

۸۔  پیامصبح ﴿۱:۹: ۱ ﴾ ماخوذ از لانگ فیلو لکھا۔ ماخوذ ہے

۹۔  عشق اور موت ﴿۲۰۵﴾ ماخوذ از ٹینی سن لکھا ہے۔ ماخوذ ہے

۱۰۔  رخصت ائے بزمجہاں ﴿۱:۵۴۱ ﴾ ماخوذ از ایمر سن لکھا لیکن کامیاب منظوم ترجمہ ہے

۱۱۔  مرثیہ داغ ۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے

۱۲۔  گورستان شاہی۔  ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے

۱۳۔  ایک پرندہ اور جگنو ۔ ﴿۵۹: ۳ ﴾ ماخوذ نہیں لکھا۔ آزاد منظوم ترجمہ ہے

۱۴۔   والدہ مرحومہ کی یاد میں۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے

۱۵۔  ابرکوہسار۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے۔

۱۶۔   ایک آرزو۔ ماخوذ نہیں لکھا لیکن ماخوذ ہے۔

 

ان نظموں کو ہم تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

 

۱۔  سلسلہ نشان ۲،۵،۸،۹ اور ۱۰ کی حد تک اقبال نے اصل انگریزی شاعر کی نشاندہی کی اور علی الترتیب ماخوذ لکھااز ایمرسن، از ولیم کوپر، ماخوذ از لانگ فیلو۔ ماخوذ ٹینی سن، ماخوذ ایمرسن لکھا لیکن انگریزی نظموں کا عنوان  ظاہر نہیں کیا۔

 

۲۔ دوسرے رمزے میں سلسلہ نشان ۱، ۳، ۴، ۶ کی نظمیں ہیں جن کی حد تک اقبال نے صرف ماخوذ لکھنے پر اکتفا کیا ۔

 

۳۔  تیسرے رمزے میں سلسلہ نشان ۷، ۱۱، ۱۲، ۱۳، ۱۴، اور ۱۵ کی نظمیں شامل ہیں، جن کے ساتھ اقبال نے ماخوذ نہیں لکھا لیکن ایک پرندے کی فریاد اور جگنو آزاد ترجمہ ہے اور بقیہ نظمیں ماخوذ کی تعریف میں آتی ہیں۔

 

اردو شاعروں میں اقبال شاید پہلے شاعر ہیں جنہوں نے ماخوذ کی اصطلاح استعمال کی اور اس اصطلاح کو ماخوذ نظموں کے لیے بھی استعمال کیا اور منظوم ترجموں کے لیے بھی ۔

 

یہاں ماخوذ اور ترجمے کا فرق ذہین میں رکھنا ضروری ہے۔ ماخوذ نظمیں منظوم ترجمہ کے حدود سے باہر ہیں اور ان پر منظوم ترجموں کا اطلاق نہیں ہوتا۔  منظوم ترجمہ کرتے ہوئے اگر شاعر آزاد ترجمہ مطابق اصل نہ ہو بلکہ اصل نظم سے صرف بنیادی خیال و ہئیت کو اخذ کیا جائے اور شاعر اپنی تخلیقی صلاحیت  کو کام لاتے ہوئے صرف بنیاد خیال   کے اطراف اپنی تخلیق کو پیش کرے تو اس نظم کو ماخوذ کہیں گے۔ ماخوذ نطم کو شاعراگر منظوم ترجمہ قرار دے تو ہم جہاں تک ترمہ کا تعلق ہے اس کو ناکام کوشش قرار دیں گے۔ لیکن اگر یہ ادعا نہ کرے کہ منظوم ترجمہ ہے تو پھر بہ حیثیت ماخوذ اس کے معیار کا تعین کیا جا سکے گا۔ ﴿۶﴾


 اقبال نے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا اور منظوم ترجموں کو بھی ماخوذ کہا ہے، جبکہ صرف سلسلہ نشان ۵، ۷، ۹، ۱۱، ۱۳، اور ۱۵ کو ہم ماخوذ کے رمزے میں شریک کر سکتے ہیں۔                                                                               

متذکرہ بالا نظموں کے من جملہ ۸ ماخوذ نظموں کو چھوڑ کر بقیہ ۷ نظمیں منظوم ترجمے ہیں۔ یہ سب منظوم ترجمے ۱۹۰۵ ء سے قبل کے ہیں۔  اقباک نے اپنے ترجمون میں آزادی سے کام لیا ہےاور ان کے سب ترجمے آزاد یا نیم آزاد کی تعریف میں آتے ہیں۔ اقبال کے اپنے معیاراور اعلیٰ تخلیقی صلاحیت کے پیش نظر ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ اصل نظم کے پابند ہو جاتے، انہوں نے ان منظوم ترجموں میں انگریزی نظموں کے خیالات سے استفادہ کیا ، لیکن بسا اوقات اپنی نظموں کی تشکیل اپنے ذاتی اور فکری رجحان کے تحت کی۔ اقبال کے سب ترجمے وفادارانہ نہ سہی۔۔۔ خوبصورت یقیناً ہیں۔

 

اقبال کے تمام منظوم ترجمے نہ صرف اردو شاعری کا جزو بن گئے ہیں بلکہ یہ مختصر ذخیرہ اتنا قیمتی ہے کہ اردو شاعری اس پر ناز کر سکتی ہے۔ یہ منظوم ترجمے زبان و بیان کی لطافت و شیرینی مضامیں کی ندرت اور خیالات کی نزاکت کے اعتبار سے قاری کو اس طرح متا ثر کرتے ہیں کہ وہ ترجمہ نہیں بلکہ اصل تخلیق معلوم ہوتے ہیں۔ اگر اقبال اشارتاً یا  صراحتاً حوالہ نہ دیتے تو یہ پہچا ننا مشکل تھا کہ یہ تخلیقات اقبال یا  انگریزی شاعروں کی ملکیت ہیں۔

 

اقبال کی نظم "پیام صبح" لانگ فیلو کی نظم" ڈے بریک"   کا آزاد ترجمہ ہے۔ اصل نظم میں لانگ فیلو نے طلوع آفتاب کا ذکر مکالمہ کے انداز میں کیا ہے۔ اصل نظم کے مطابق سمندر سے نسیم صبح آتی ہے اور شبنم  سے جہازوں ، زمین سے، جنگل سے  پرندوں سے، مرغ خانہ سے کھیت سے اور گھنٹہ سے مخاطب ہو کر جگاتی ہے اور صبح کا پیام دیتی ہے۔ لیکن قبرستان پر سے گزرتی ہے تو کہتی ہے ابھی آرام کرو ۔ یہ مخاطبت شاعر نے نسیم صبح کے الفاظ میں بیان کی ہے۔ اٹھارہ مصرعوں کی نظم کا ترجمہ اقبال نے اٹھارہ مصرعوں ہی میں کیا ہے۔ اقبال کی نظم "پیام صبح" کے مطابق نسیم صبح بلبل کو، دہقان کو، برہمن و موذن کو ، غنچہ و گل کو ، قافلہ والوں کو پیام صبح دیتی ہے۔   اصل نظم میں تمام پیام نسیم سحر کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اقبال ابتدائی حصہ میں طلوع سحر سے متعلقہ مناظر کی عکاسی خود کرتے ہیں۔ البتہ بعد کے حصہ میں نسیم سحر یا نسیم صبح کی بجائے نسیم زندگی کہہ  کرطلوع سحر کو وسیع تر مفہوم میں استعمال کیا، چنانچہ  موذن سے اور اہل قافلہ سے نسیم زندگی کی مخاطبت میں بھی ان وسیع معنوں کی طرف صاف اشارہ ملتا ہے۔

 اقبال کی نظم "ماں کا خواب " ولیم بارنس کی نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

The Mother’s Dream  ﴿ کا پابند ترجمہ ہے۔ گو اقبال نے اصل نظم کے مقابلے میں کچھ زیادہ تفصیلات پیش کی ہیں پھر بھی اس کو پابند ترجمہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس ترجمہ کو صرف اقبال کا مکمل اور کامیاب ترجمہ کہہ سکتے ہیں، بلکہ انگریزی سے اردو میں جو کامیاب ترجمے ہوئے ہیں ان میں اس کو با آسانی شریک کر سکتے  ہیں۔                  ۷


اقبال کی نظم "مکڑا اور مکھی" Mary Haworthکی نظم The Spider and The Fly کا آزاد ترجمہ ہے۔ اصل انگریزی نظم چالیس سطروں ﴿مصرعوں﴾  پر مشتمل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

جب کہ اقبال کا منظوم ترجمہ ۲۴ اشعار پر مشتمل ہے۔ ایک ہم ترجمہ ناظم انصاری کی کاوش کا نتیجہ ہے جو ۵۴ اشعار پر مشتمل ہے۔

 

اقبال کے تین شعر زائد ہیں جو اصل سے مطابقت نہیں رکھتے۔

         

"مکڑے نے کہا واہ فریبی مجھے سمجھے"

 

مکڑے Pantryکے تعلق سے جو کہا اس کا ذکر اقبال کے ترجمہ میں نہیں ہے۔ انگریزی نظم میں مکھی خوشامد کی باتیں سن کر چلی جاتی ہے اور مکڑی کی توقع کے مطابق واپس ہوتی ہے۔ اقبال کے منظوم ترجمہ میں خوشامد کی باتیں سن کر مکھی پسیج جاتی ہے اور اسی وقت مکڑی کے جال میں پھنس جاتی ہے۔ اقبال کی نظم کے یہ اشعار

 

مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیجی    بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا

انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں    سچ  یہ ہے  کہ  دل  توڑنا  اچھا  نہیں  ہوتا

 

یہ اصل سے زائد ہیں ، اصل نظم کا Theme یہ ہے کہ مکری اپنی چیزوں کی تعریف کرتی ہے اور مکھی کو بلاتی ہے تو مکھی انکار کرتی ہے۔ تب مکڑی مکھی کے پروں اور اس کی آنکھوں کی تعریف کرتی ہے اور کہتی ہے کہ میرے پاس ایک آئینہ ہے اگر تم میرے پاس آو تو خود دیکھ لوگی ۔ اس پر مکھی شکریہ  کر کے پھر کبھی آنے کا وعدہ کرکے اڑ جاتی ہے ۔ چنانچہ مکڑی جالا تان کر رتیار رہتی ہے۔ جب حسب توقع مکھی آتی ہے تو مکڑی خوشامد کی باتیں کرتی ہے ۔ مکھی ان باتوں میں آکر جال میں پھنس جاتی ہے۔

 

اقبال کا منظوم ترجمہ " رخصت اے بزم جہاں" ایمرسن کی نظم Good Bye کا منظوم ترجمہ ہے۔ بقول ایس جالب مظہری یہ ترجمہ تخیلی شاعری کی مثال ہے۔

 

اقبال کی نظم "بچے کی دعا" مٹیلڈا بینتھم  ایڈورڈس کی نظم Child’s Hymnکا آزاد ترجمہ ہے۔  بقول ڈاکٹر اکبر ھسین قریشی انگریزی نظم زیادہ متصل اور متنوع ہے اور اس میں پیکر نگاری زیادہ دلکش اور بلیغ ہے۔ خاص کر آخری بند میں شاعر نے پوری نظم کو سمو دیا ہے۔ اقبال کی نظم نہ صرف مختصر ہے بلکہ اس کو پڑھنے سے تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ اصل نظم پانچ بند پر مشتمل ہے۔ ایک ایک بند میں بچہ دعا کرتا ہے کہ اس کی زندگی علی الترتیب روشی، پھول، راگ، عصا، اور دعائیہ نظم کے مانند ہو۔ اقبال نے ترجمہ کرتے ہوئے اصل نظم کے دو بند کی حد تک پابندی کی ہے اور دعا کی ہے کہ زندگی "شمع کی صورت" اور پھول کی مانند زینت دینے والی ہو۔ پھر وہ اصل سے ہٹ کر زندگی مثل پروانہ ہونے کی دعا کرتے ہیں۔                                                                              
                                                                                            ۸                                                                                      


زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب                                           

 

اقبال ترجمہ میں زندگی کو راگ، عصا اور دعائیہ نظم سے مما ثلت دینے کا حصہ کا ترجمہ نہیں کرتے۔ اس کمی کی وجہ سے یہ کہا جاسکتاہے کہ ترجمہ مکمل نہیں ہے۔ لیکن اس نظم کو ترجمہ ہی کے حدود میں رکھا جا سکتا ہے۔ ماخوذ کے رمزے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔

 

اقبال کی نظم "پرندہ اور جگنو" ﴿۳:۵۹﴾ ولیم کوپر کی نظم The Nightingale And The Glowworm ﴿۱۰:۳﴾ کا آزاد ترجمہ ہے۔ یہ ۱۹۰۵ء کے پہلے کی نظم ہے۔ اقبال نے اصل شاعر کا حوالہ نہیں دیا اور نہ دوسرے منظوم ترجموں کی طرح ماخوذ ہونے کی صراحت کی ہے ۔ البتہ مولوی عبدالرزاق نے کلیات اقبال میں لکھا ہے یہ نظم انگلستان کے ایک نازک خیال شاعر" ولیم کوپر" کی ایک مشہور و مقبول نظم " اے نائٹ اینگل اینڈ گلوورم" سے ماخوذ ہے۔

 

اقبال کی نظم" ہمدردی"  جس کے متعلق اقبال نے ماخوذ از ولیم کوپر لکھا ہے  " اے نائٹ اینگل اینڈ گلوورم" ہی سے ماخوذ ہے۔ چونکہ دونوں نظموں یعنی " ایک پرندہ اور جگنو " اور "ہمدردی" کا ماخذ ایک ہی نظم ہے ۔ محققین کو اس کا ﴿ ہمدردی ﴾ کا ماخوذ تلاش کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔

 

ڈاکٹر اکبر حسین قریشی " تلمیحات و اشارات اقبال " میں ہمدردی کے بارے میں اعتراف کرتے ہیں کہ اس عنوان کی نظم" کوپر" کے مجموعہ کلام میں نہیں مل سکی۔

 

اقبال نے اپنی دونوں نظموں میں ولیم کوپر کی ایک ہی نظم کے خیال کو الگ الگ استعمال کیا ہے، ہمدردی کو ہم ماخوذ قرار دے سکتے ہیں جب کہ "ایک پرندہ اور جگنو" آزاد ترجمہ ہے۔ اس منظوم ترجمہ میں مفہوم کو باقی رکھتے ہوئے لفظی ترجمے سے اجتناب کیا گیا ہے۔ اس کے بولتے فقرے پر کیف ہیں ۔ زبان کی صفائی کا یہ عالم کہ پورا منظوم ترجمہ پڑھ جائیے کوئی لفظ ایسا نہیں ملے گا جو ذرا بھی کھٹکے۔ کوئی ترکیب ایسی نہیں ملے گی جو ذرا بھی گراں گزرے۔ اقبال کے دوسرے منظوم ترجموں کی طرح اس نظم میں بھی انگریزی خیالات اردو کے نفیس سانچوں میں ڈھل کر نکلتے ہیں۔

 

اقبال سے پہلے بانکے بہاری لال نے " حکایت بلبل اور شب تاب کی " ﴿۴۶:۹﴾ اور رحیم اللہ نے بلبل اور جگنو کی حکایت ﴿۴۷:۹﴾ کے عنوان سے منظوم ترجمے کئے تھے۔ یہ نہیں معلوم کہ یہ ترجمے اقبال کی نظر سے گزرے تھے یا نہیں ۔ تین ا ہم ترجمے یعنی "بدرالزماں بدر" کا ترجمہ "عندلیب اور کرمک شب تاب" ﴿۶۳:۳﴾ نسیم کا ترجمہ "بلبل اور جگنو" ﴿۵۱:۷﴾ اور سعید الدین خاں سعید کا ترجمہ " بلبل اور جگنو" ﴿۵۱:۷﴾ بعد کے ہیں۔ ان تمام ترجموں میں اقبال کے منظوم ترجمہ کو خاص امتیاز حاصل ہے۔

اقبال کے منظوم ترجمے کے مقام کا تعین کرنے کے لیے اصل نظم کے ایک بند کا ترجمہ اقبال اور دوسرے شاعروں نے کس طرح کیا ہے اس کا تقابلی مطالعہ معاون ہوگا۔ مثلاً انگریزی نظم کا ایک بند ہے ۔۔۔۔۔                                                                                ﴿۹﴾


When looking eagerly around

He spied far off upon the ground

A something shining in the dark

And knew glowworm by his spark 

         

بانکے بہاری نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے۔۔۔۔۔۔

کی جو چاروں طرف بہ شوق نظر    دیکھا  کچھ  دور سے  کسی  جاء  پر

ہے اندھیرے میں دیر پا کچھ  تاب     جانا اس تاب سے کہ ہے یہ شب تاب

 

رحیم اللہ کا منظوم ترجمہ یوں ہے۔۔۔۔۔۔۔

         

جستجو سے کر کے ہر جانب  نظر     دیکھتی کیا ہے زمیں  پر دور  تک

          ہے اندھیرے میں چمکتی ایک شئے   اور و سمجھی کرمک شب تا ب ہے

 

اقبال کے بعد کے شاعروں میں بدرالزماں بدر نے اپنی کاوشوں کو یوں پیش کیا ہے

گرد  اپنے  جب  نگہ شوق  سے  دیکھا  وہاں   تو نظر آئی  زمیں پر  ایک  شے سی  ناگہاں

 

ظلمت شب  میں چمکتی تھی  وہاں  کچھ  فصل  پر  

 کرمک شب تاب اس کی ضو سے وہ سمجھی مگر

 

نسیم کہتے ہیں

 

پھر گرد و پیش شوق سے وہ دیکھتی رہی     اک چیز اسے زمیں پہ نظر دور سے پڑی

وہ تیرہ  شب میں ایک تھا  جگنو پڑا  ہوا     اور اس  جگہ  چراغ   ضیا  تھا  جلا  رہا

 

سعید الد ین خاں سعید نے اس بند کو یوں اردو کا قالب دیا ہے۔

 

ہر سو نظر اٹھا ئی غذا کی تلاش میں      دیکھی  چمکتی  دور  سے اک  ارتعاش میں

تابندگی  نے اس  کو دلایا  اسے یقین       جگنو تھا جس کو کہتے ہیں مشعلچیء زمیں

 

ان سب کے مقابل اقبال نے اس مفہوم کو صرف ایک شعر میں یوں ادا کیا ہے

 

          چمکتی چیز اک دیکھی زمیں پر

          اڑا  طائر اسے جگنو سمجھ  کر

                                                                                  ﴿۱۰﴾


اقبال پہلے شعر میں بلبل کی نغمہ سرائی کا ذکر کرتے ہیں، لیکن بھوک سے بے قابو ہونے کا ذکرنہیں کرتے۔ چھٹے مصرعہ میں اتنا ظاہر ہوتا ہےکہ بلبل جگنو کو کھا لینا چاہتا ہے

 

          نہ کر بےکس پہ منقار ہوس تیز

 

اقبال پرندے کی دلکش صدا اور جگنو کی چمک کو اللہ کی قدرت و بخشش قرار دیتے ہیں۔ نظم کے آخری چار اشعار میں اقبال انگریزی نظم سے انحراف کرتے ہیں۔ آخری بند میں انگریزی شاعر نے اخلاقی رنگ اختیار کیا ہے ۔ جب کہ اقبال اپنے بند میں آفاقی معنویت بخشتے ہیں۔ لیکن اس جزوی اختلاف کے باوجود" ایک پرندہ اور جگنو " کو منظوم ترجمہ ہی قرار دی جا سکتا ہے۔

 

انیسویں صدی کے آخری دو دہوں میں اردو شاعری کی اصلاح کی جس تحریک کا آغا ز ہوا اس سے اقبال بڑی حد تک متاثر ہوئے۔ اقبال کی شخصیت اور ان کے فن کی عظمت کی وجہ سے بیسویں صدی کی ابتداء ہی سے اقبال کی شاعری کے اثرات صاف دکھائی دیتے ہیں۔ جو نئے رنگ اردو زبان کو دئیے ان سے دوسرے شاعر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اقبال نے اپنے منظوم ترجموں میں مروجہ سانچوں ہی کو استعمال کیا اور ہئیت میں نئے تجربے نہیں کئے لیکن اپنی شاعری و نیز منظوم ترجموں میں جو اسالیب پہلی بارانہوں نے استعمال کئے ان سے ان کے ہم عصر اور بعد کے شاعر متاثر ہوئے۔

 

نوٹ: شعر وسخن کے صفحات پر پہلی بار مائکروسافٹ کا  یونیکوڈ فا نٹ  مضامیں کے سکشن میںاستعمال کیا گیا ہے۔ ان صفحات کی نظر ثانی کی جارہی ہے۔ اگر ضروری ہو تو تصحیح  کی جائیگی۔

 

 

 

 

                                                                                                                         ﴿۱۱﴾


homepage.jpg